شیئر کریں

شیئر کریں السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
​اس تھریڈ میں اپنی پسندیدہ غزلیں شیئر کرسکتے ہیں
~
اداس شامیں، اجاڑ راستے، کبھی بلائیں تو لوٹ آنا
~
کسی کی آنکھوں میں رتجگوں کے عذاب نظر آئیں تو لوٹ آنا
~
ابھی نئی وادیوں، نئے منظروں میں رہ لو مگر میری جاں
~
یہ سارے ایک ایک کر کے تمکو چھوڑ جائیں تو لوٹ آنا
~
نئے زمانوں کا قرب اوڑھے، ضعیف لمحے، نڈھال یادیں
~
تمھارے خوابوں کے بند کمرے میں لوٹ آئیں تو لوٹ آنا
~
اگر اندھیروں میں چھوڑ کر تمکو بھول جائیں تمھارے ساتھی
~
اور اپنی خاطر ہی اپنے دئیے جلائیں تو لوٹ آنا
~
میری وہ باتیں جن پہ بے اختیار ہنستا تھا کھلکھلا کر
~
بچھڑنے والے میری وہ باتیں کبھی رلائیں تو لوٹ آنا
Alina830(8th September 2014)
یہ خوف دل میں نگاہ میں اضطراب کیوں ہے
~ ~
طلوع محشر سے بیشتر یہ عذاب کیوں ہے
~ ~
کبھی تو بدلے یہ ماتمی رُت اداسیوں کی
~ ~
میری نگاہوں میں ایک سا شہرِ خواب کیوں ہے
~ ~
کبھی کبھی تیری بے نیازی سے خوف کھا کر
~ ~
میں سوچتا ہوں کہ تو میرا انتحاب کیوں ہے
~ ~
فلک پہ بکھری سیاہیاں اب بھی سوچتی ہیں
~ ~
زمین کے سر پہ یہ چادر آفتاب کیوں ہے
~ ~
ترس گئے میرے آئینے اُس کے خال و خد کو
~ ~
وہ آدمی ہے تو اس قدر لاجواب کیوں ہے
~ ~
اُسے گنوا کر پھر اُس کو پانے کا شوق کیسا
~ ~
گناہ کر کے بھی انتظارِ ثواب کیوں ہے
~ ~
تیرے لیے اُس کی رحمتِ بے کنار کیسی
میرے لیے اُس کی رنجشِ بے حساب کیوں ہے
~ ~
اُسے تو محسن بلا کی نفرت تھی شاعروں سے
~ ~
پھر اُس کے ہاتھوں میں شاعری کی کتاب کیوں ہے
zebi bhai bhut achy ap ny ek section hi Start kr diya hy very good
Zebi Khan(6th September 2014)
kiyon dil dhukane wale msg share karte ho..
Zebi Khan(6th September 2014)
fatimashahsaid:
zebi bhai bhut achy ap ny ek section hi Start kr diya hy very good Shukriya sister
Umeed hay Ap b yaha par Ghazaly Share karengi
Kingdani9081said:
kiyon dil dhukane wale msg share karte ho.. Kia kary bhai Hum pehly say Dukhi hayn
میری زندگی میں رب نے تیرا پیار لکھ دیا
~
لوگوں نے مجھ کو دیکھا توبیمار لکھ دیا
~
نبض دیکھی جوحکیم نے تو پیار کا بخار لکھ دیا
~
ایسے حکیم پر مجھےکیوں نا ناز ھو جس
نے دوا میں تیرا دیدار لکھ دیا
برس جاتا ہے جس کو دیکھ کر ساون شراروں میں….!
وہ ایسا شخص کوئی ایک ہوتا ہے ہزاروں میں….!
ترنم قہقہوں کی آبشاروں کا بجا لیکن….!
مزا کچھ اور ہی ہے بیٹھنے کا غم کے ماروں میں…!
یہ کس بے درد کی غیرت کا لاشہ آ گرا ہم میں…!
یہ کس نے طنز کاپھینکا ہے پتھر آشکباروں میں…!
گُر چاہت کے پاؤ گے نہ رنگوں کے سمندر میں…!
ملیں گے تم کو یہ انمول موتی خاکساروں میں…!
سنائی دے رہی ہے بازگشت اس کی مجھے اب بھی…!
کہ جیسے گونجتی ہو اک صدا سی کوہساروں میں…!
اسے خوشبو بھرے جھونکوں سے بھی تکلیف ہوتی ہے…!
جلا ہو دھیرے دھیرے آشیاں جس کا بہاروں میں…!
چھلک جاتا ہے غم انور آنسو بن کے آنکھوں سے…!
کہ یہ دریا نہیں رہتا کبھی اپنے کناروں میں…!
.* فخروسیم *.
Alina830(8th September 2014), Zebi Khan(6th September 2014)
fakharwasimsaid:
برس جاتا ہے جس کو دیکھ کر ساون شراروں میں….!
وہ ایسا شخص کوئی ایک ہوتا ہے ہزاروں میں….!
ترنم قہقہوں کی آبشاروں کا بجا لیکن….!
مزا کچھ اور ہی ہے بیٹھنے کا غم کے ماروں میں…!
یہ کس بے درد کی غیرت کا لاشہ آ گرا ہم میں…!
یہ کس نے طنز کاپھینکا ہے پتھر آشکباروں میں…!
گُر چاہت کے پاؤ گے نہ رنگوں کے سمندر میں…!
ملیں گے تم کو یہ انمول موتی خاکساروں میں…!
سنائی دے رہی ہے بازگشت اس کی مجھے اب بھی…!
کہ جیسے گونجتی ہو اک صدا سی کوہساروں میں…!
اسے خوشبو بھرے جھونکوں سے بھی تکلیف ہوتی ہے…!
جلا ہو دھیرے دھیرے آشیاں جس کا بہاروں میں…!
چھلک جاتا ہے غم انور آنسو بن کے آنکھوں سے…!
کہ یہ دریا نہیں رہتا کبھی اپنے کناروں میں…!
.* فخروسیم *.
BHAi kia baat hayn mazeeed Esi Sharing ka intezr rahy ga
Alina830(8th September 2014)
آہستہ آہستہ
سرکتی جائے ہے رُخ سے نقاب آہستہ آہستہ
نکلتا آ رہا ہے آفتاب آہستہ آہستہ
جواں ہونے لگے جب وہ تو ہم سے کر لیا پردہ
حیا یک لخت ائی اور شباب آہستہ آہستہ
شبِ فرقت کا جاگا ہوں فرشتو اب تو سونے دو
کہیں فرصت میں کر لینا حساب آہستہ آہستہ
سوالِ وصل پر ان کو خدا کا خوف ہے اتنا
دبے ہونٹوں سے دیتے ہیں جواب آہستہ آہستہ
ہمارے اور تمہارے پیار میں بس فرق ہے اتنا
اِدھر تو جلدی جلدی ہے اُدھر آہستہ آہستہ
وہ بے دردی سے سر کاٹے امیر اور میں کہوں ان سے
حضور آہستہ آہستہ جناب آہستہ آہستہ
امیر مینائی
Alina830(8th September 2014)
ﮨﺠﺮ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﻥ ﺭﻻﺗﮯ ﮨﻮ ﮐﮩﺎﮞ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﻮ
ﮨﺠﺮ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﻥ ﺭﻻﺗﮯ ﮨﻮ ﮐﮩﺎﮞ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﻮ
ﻟﻮﭦ ﮐﺮ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﮯ ﮨﻮ ﮐﮩﺎﮞ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﻮ
ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺑﭽﮭﮍﮮ ﮨﻮ ﺗﻮ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﻧﻈﺮ ﮨﻮ ﮐﺲ ﮐﮯ
ﺁﺝ ﮐﻞ ﮐﺲ ﮐﻮ ﻣﻨﺎﺗﮯ ﮨﻮ ﮐﮩﺎﮞ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﻮ
ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﻣﻠﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﻮﺉ ﺷﺨﺺ ﺑﮩﺎﺭﻭﮞ ﺟﯿﺴﺎ
ﻣﺠﮭﮑﻮ ﺗﻢ ﮐﯿﺴﮯ ﺑﮭﻼﺗﮯﮐﮩﺎﮞ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﻮ
ﯾﺎﺩ ﺁﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﮐﯿﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﻧﯿﻨﺪﯾﮟ
ﮐﺲ ﻃﺮﺡ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺳﻼﺗﮯ ﮨﻮ ، ﮐﮩﺎﮞ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﻮ؟
ﺷﺐ ﮐﯽ ﺗﻨﮩﺎﺋﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﮐﺜﺮ ﯾﮧ ﺧﯿﺎﻝ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ
ﺍﭘﻨﮯ ﺩﮐﮫ ﮐﺲ ﮐﻮ ﺳﻨﺎﺗﮯ ﮨﻮ ﮐﮩﺎﮞ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﻮ
ﻣﻮﺳﻢ ﮔﻞ ﻣﯿﮟ ﻧﺸﮧ ﮨﺠﺮ ﮐﺎ ﺑﮍﮪ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ
ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺐ ﮬﻮﺵ ﭼﺮﺍﺗﮯ ﮨﻮ ﮐﮩﺎﮞ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﻮ
ﺳﺮﺩ ﺭﺍﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﮐﯿﺴﮯ ﺑﮭﻼ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﻮﮞ
ﺁﮒ ﺳﯽ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﻟﮕﺎﺗﮯ ﮨﻮ ﮐﮩﺎﮞ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﻮ
ﺗﻢ ﺗﻮ ﺧﻮﺷﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺭﻓﺎﻗﺖ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺑﭽﮭﮍﮮ ﺗﮭﮯ
ﺍﺏ ﺍﮔﺮ ﺍﺷﮏ ﺑﮩﺎﺗﮯ ﮨﻮ ﮐﮩﺎﮞ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﻮ
ﺷﮩﺮ ﮐﮯ ﻟﻮﮒ ﺑﮭﯽ ﻭﺍﺛﻖ ﯾﮩﯽ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺳﻮﺍﻝ
ﺍﺏ ﮐﻢ ﮐﻢ ﻧﻈﺮ ﺁﺗﮯ ﮨﻮ ﮐﮩﺎﮞ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﻮ
Alina830(8th September 2014)”
post source

Leave a Comment

(0 Comments)

Your email address will not be published. Required fields are marked *